بنگلورو، 17؍اپریل (ایس او نیوز) ایک نوجوان کے قتل کی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ اس کے قتل کی وجہ کا اردو زبان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ معاملے کی تحقیقات سی آئی ڈی کررہی ہے۔ 4 اپریل کو نوجوان چندرو کا بنگلورو شہر کے جے نگر میں چھرا گھونپ کر قتل کردیا گیا تھا۔
ریاستی وزیر داخلہ اراگا گیانیندر کی جانب سے اس دعوے کے بعد کہ اردو نہ بول پانے کی وجہ سے نوجوان کا قتل کیاگیا، اس معاملے نے فرقہ وارانہ موڑ لے لیا۔
بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری سی ٹی روی نے بھی ایسا ہی بیان جاری کیا تھا۔ تاہم وزیر داخلہ نے یو ٹرن لیتے ہوئے اپنا بیان واپس لے لیا۔
بنگلورو کے کمشنر پولیس کمل پنت نے وضاحت کی کہ یہ قتل سڑک پر لڑائی کی وجہ سے پیش آیا۔ تاہم بی جے پی ایم ایل سی روی کمار اور دیگر نے کہا کہ کمل پنت جھوٹ بول رہے ہیں اور قتل اس لیے ہوا کیو ں کہ چندرو ”اردو نہیں بول سکا۔“
وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی نے تنازعہ کے بعد یہ کیس سی آئی ڈی کے حوالے کردیا۔ سی آئی ڈی کے عہدیداروں نے واردات کے وقت مقتول کے ساتھ موجود سائمن راجو کا بیان قلمبند کیا۔
انہوں نے چندرو کے خاندان اور رشتہ داروں کے بھی بیانات قلمبند کیے۔ راجو نے قبل ازیں میڈیا سے کہا کہ چندرو کا قتل اردو بولنے سے قاصر رہنے کی وجہ سے ہوا۔ تاہم اس نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ ملزم کی مقتول کی بائیک کو ٹکر کی وجہ سے جھگڑا ہوا جو بعد میں لڑائی میں تبدیل ہوگیا جس کے دوران چندرو کو چھراگھونپ دیا گیا۔
راجو نے سی آئی ڈی کو بتایا کہ اس کیس کا زبان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پولیس ذرائع نے کہا کہ اصل ملزم شاہد پاشا سمیت تینوں افراد روانی سے کنڑ زبان بولتے ہیں اور تحقیقات میں بھی انکشاف ہوا کہ مقتول چندرو کی بھی اردوزبان پر اچھی گرفت تھی۔
مزید تحقیقات جاری ہے۔ یہ معاملہ حکمراں بی جے پی کے خلاف جھٹکہ ہے کیوں کہ ریاستی قائدین پُرزور انداز میں دلیل دے رہے تھے ہ یہ قتل فرقہ وارانہ نفرت کی وجہ سے ہوا ہے۔